دنیا ایک میلہ ہے

 وقت انسان کوزیادہ مہلت نہیں دیتا۔ انسان ایک طرح سے قابل ترس ہوجاتا ہے جب وہ اپنے مستقبل سے متعلق بڑے بڑے دنیاوی منصوبوں پرکام شروع کردیتا ہےاوران کوحقیقت میں بدلنے کے لیے سفرکا آغازتوکردیتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ اس کے لئے قدرت کا کیا پروگرام ہے ۔ انسان کم سے کم اس بات پرہی غور کرلے کہ قدرت کی طرف سے زندگی گزارنے کا کیا طریقہ مجھے بتایا گیا ہے اور کیوں بتایا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قدرت کی بھی ہمارے لئے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی تو ہے۔ اب جب ہم قدرت کے نظام کا بغورجائزہ لیں تومعلوم یہ ہوتا ہے کہ ہم یہاں کوئی زیادہ لمبی مدت کے مکین نہیں ہیں بلکہ ایک بازار سے گزر ہو رہا ہے اور اپنی ضرورت کی چیز کے لیے خود ہی ذرائع تلاش کرنے یا پیدا کرنے ہیں اور ضرورت کی چیز کو خرید کراستعمال کرنا ہے اور اللہ تعالی کا شکربجا لاتے ہوئے گزرجانا ہے۔دنیا ایک خوبصورت میلہ ہے اور میلہ چند دن لگتا ہے۔


جب حضرت انسان اپنی کم علمی، بے فکری ، اورنادانی کی وجہ سے دنیا کی لذتوں یا عارضی خوبصورتیوں میں دلچسپی لینا شروع کردے توپھروہ ایسی تن آسانیوں ،آسائشوں اوردنیاوی مقام ومرتبوں کے خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔انسان بے وقت منزل کے حصول میں ہمہ وقت مصروف رہنا شروع کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ فضول اور بے معنی منزل کی محبت اس کے دل میں ا یسے گھر کر لیتی ہے کہ اللہ کی محبت اس کے دل سے جاتی رہتی ہے اور بالاآخر وہ اللہ کی قربت اور محبت سے تودور ہو ہی جاتا ہے بلکہ وہ اللہ کے احکامات کو بھی بجا لانے میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ اس وجہ سے اللہ تعالی کی ناراضگی اس کے حصے میں آتی ہے ۔

بعض اشخاص کو اللہ تعالی بغیر کسی محنت کے دنیا کی دولت اور آسائشوں سے نواز دیتا ہے۔ کسی کے لئے خوشگوار حادثے کے نتیجے میں اس کی غریبی کو امیری میں بدل دیتا ہے۔ اسطرح کچھ لوگ پیدائشی امیر ہوتے ہیں اور کئی مال و جائیداد کے حصول کے لئے محنت کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو محنت کے نتیجے میں خزانوں سے نواز دیتا ہے۔ لیکن یہ دنیاوی مال ان کی آزمائش کا سامان بنتا ہے جس کے پاس جتنا زیادہ مال ہوگا اس سے اس کا اتنا ہی بڑا حساب لیا جائے گا۔ دنیا میں جس شخص کے پاس جو چیز جتنی زیادہ ہوگی اس سے اس کا اتنا بڑا حساب لیا جائے گا۔اس امتحان میں نوکر و بادشاہ،حاکم و رعایا،جج و وکیل،خوبصورت و بدصورت،امیر و غریب،نامور ی اور گمنامی میں زندگی گزارنے والوں کے علاوہ بے شمارلوگ شامل ہوں گے۔لیکن سرخرو وہی ہو گا جس کا شیوہ عدل ہو گا۔



اگر انسان سے حساب لیا جاناطے ہے تواس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان محنت کرنا چھوڑ دے اورصرف اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہو جائے اگرایسا کیا گیا توانسان کے پاس عبادت کرنے کے وسائل بھی ختم ہو جائیں گے۔ انسان کو ہرجگہ عدل سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے چاہے انسان خلوت میں دنیا کی تمام کامیابیوں کو سمیٹنے کے منصوبے پر ہی کیوں نہ فکر کر رہا ہو۔اسطرح اخلاقیات سے لے کرمعاشیات، سیاسیات،خاندان، معاشرت، خلوت و جلوت، حتی کہ زندگی کے ہر فکر و عمل میں عدل کو بنیاد بنائے رکھے۔ اس کے پاس دولت ہے تواس کوعدل کے ساتھ استعمال میں لاتے ہوئے اس سے اپنے،  اپنے خاندان اور معاشرے کے حقوق ادا کرے۔ اگر انسان کو کسی دنیاوی عہدہ یا مرتبہ سے نوازا گیا ہے تو اس کو اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ اگر اس کے پاس شہرت و عزت بہت زیادہ ہے تو غرور اور تکبر سے کام نہ لے بلکہ شکر بجا لائے۔ اگر وہ ایک غریب شخص ہے تو محنت اور صبر سے کام لے۔



انسان سمیت دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور بے شک وہی ذات اللہ تعالی کی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم بطورانسان اپنے ماضی پرتوبہ کریں، صبر کریں یا شکر ادا کریں لیکن مستقبل کو اللہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں گزاریں۔جب انسان اپنے دنیاوی خوابوں کی اندھا دھند پیروی اور اطاعت شروع کردے اور اس سفر میں اللہ کی رضا اور مدد شامل حال نہ کرے تو وہ جنگل کے اس بے بس جانور کی مانند ہے جو اپنے جھنڈ سے بچھڑ جائے اور اس کو جنگلی خونخواردرندے آکر گردن سے دبوچ لیں۔

تبصرے

  1. ماشااللہ کیا زبردست تحریر ہے ۔ایسے موضوعات پہ لکھنا آج کے دور کی اشد ضرورت ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں