دنیا ایک میلہ ہے
وقت انسان کوزیادہ مہلت نہیں دیتا۔ انسان ایک طرح سے قابل ترس ہوجاتا ہے جب وہ اپنے مستقبل سے متعلق بڑے بڑے دنیاوی منصوبوں پرکام شروع کردیتا ہےاوران کوحقیقت میں بدلنے کے لیے سفرکا آغازتوکردیتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ اس کے لئے قدرت کا کیا پروگرام ہے ۔ انسان کم سے کم اس بات پرہی غور کرلے کہ قدرت کی طرف سے زندگی گزارنے کا کیا طریقہ مجھے بتایا گیا ہے اور کیوں بتایا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قدرت کی بھی ہمارے لئے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی تو ہے۔ اب جب ہم قدرت کے نظام کا بغورجائزہ لیں تومعلوم یہ ہوتا ہے کہ ہم یہاں کوئی زیادہ لمبی مدت کے مکین نہیں ہیں بلکہ ایک بازار سے گزر ہو رہا ہے اور اپنی ضرورت کی چیز کے لیے خود ہی ذرائع تلاش کرنے یا پیدا کرنے ہیں اور ضرورت کی چیز کو خرید کراستعمال کرنا ہے اور اللہ تعالی کا شکربجا لاتے ہوئے گزرجانا ہے۔دنیا ایک خوبصورت میلہ ہے اور میلہ چند دن لگتا ہے۔ جب حضرت انسان اپنی کم علمی، بے فکری ، اورنادانی کی وجہ سے دنیا کی لذتوں یا عارضی خوبصورتیوں میں دلچسپی لینا شروع کردے توپھروہ ایسی تن آسانیوں ،آسائشوں اوردنیاوی مقام ومرتبوں کے خواب دیکھنا شروع کر دی...