اشاعتیں

2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دنیا ایک میلہ ہے

تصویر
 وقت انسان کوزیادہ مہلت نہیں دیتا۔ انسان ایک طرح سے قابل ترس ہوجاتا ہے جب وہ اپنے مستقبل سے متعلق بڑے بڑے دنیاوی منصوبوں پرکام شروع کردیتا ہےاوران کوحقیقت میں بدلنے کے لیے سفرکا آغازتوکردیتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ اس کے لئے قدرت کا کیا پروگرام ہے ۔ انسان کم سے کم اس بات پرہی غور کرلے کہ قدرت کی طرف سے زندگی گزارنے کا کیا طریقہ مجھے بتایا گیا ہے اور کیوں بتایا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قدرت کی بھی ہمارے لئے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی تو ہے۔ اب جب ہم قدرت کے نظام کا بغورجائزہ لیں تومعلوم یہ ہوتا ہے کہ ہم یہاں کوئی زیادہ لمبی مدت کے مکین نہیں ہیں بلکہ ایک بازار سے گزر ہو رہا ہے اور اپنی ضرورت کی چیز کے لیے خود ہی ذرائع تلاش کرنے یا پیدا کرنے ہیں اور ضرورت کی چیز کو خرید کراستعمال کرنا ہے اور اللہ تعالی کا شکربجا لاتے ہوئے گزرجانا ہے۔دنیا ایک خوبصورت میلہ ہے اور میلہ چند دن لگتا ہے۔ جب حضرت انسان اپنی کم علمی، بے فکری ، اورنادانی کی وجہ سے دنیا کی لذتوں یا عارضی خوبصورتیوں میں دلچسپی لینا شروع کردے توپھروہ ایسی تن آسانیوں ،آسائشوں اوردنیاوی مقام ومرتبوں کے خواب دیکھنا شروع کر دی...

خدا کے بنائے رشتوں میں سچی محبت ہے

تصویر
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا اور اس کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں عقل و فہم جیسی نعمتوں کے علاوہ بے شمار طاقتوں اور صلاحیتوں سے نوازا. ہر وہ چیز،طاقت یا صلاحیت جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہے اس کا کہیں نہ کہیں امتحان ہوتا ہے. اسی طرح ہمارا ظرف ہماری صلاحیتوں میں سے ایک ہے اور اس کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ظرف کا امتحان زیادہ تر ہمارے رشتہ دار ہوتے ہیں. ہم بطوررشتہ دار ایک دوسرے کو ماننے اور تسلیم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور راستے میں روڑے اٹکاتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ظرف کا بھی امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔جو انسان اپنی زندگی میں رشتوں اور رشتے داروں کو اہمیت نہیں دیتا اس کی زندگی میں کھوکھلا پن آجاتا ہے اور وہ مادیت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالا آخر اس کی زندگی سے سکون  نام کی چیز غائب ہو جاتی ہے وہ لوگ جو اللہ کے بندے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کی روشنی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کے بنائے گئے نظام اور جوڑے گئے رشتوں کو سمجھتے ہیں تویہ دنیا ان کے لیے گلزار ہے۔ اس کے برعکس زندگی قرآن و سنت کے بتائ...

تصورات کی طاقت

تصویر
                 انسانی دماغ کی سب سے بہترین خوبی تصور کرنا ہے۔ دماغ کا چیزوں کوتصور کرنا ہمارے پورے وجود پر اثر ڈالتاہے۔ یہ ہر چیز کو متاثر کرتا ہے جو ہم بولتے ہیں ،کرتے ہیں یا سوچتے ہیں۔ یہ سائنس، انجینئرنگ اور آرٹس حتی کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہم ہوں وسیع نظریات، خوابوں اور ایجادات کا باعث بنتا ہے۔ نپولین ہل اپنی کتاب روڈ ٹو سکسیس میں لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص اپنے ہاتھ میں ایک پلیٹ لیے رات کا کھانا لینے کے لئے کیفٹیریا میں لوگوں کی قطار میں لگا ہو ا تھا۔اچانک اس کی تصورات کی حسِ نے کام کرنا شروع کیا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ ایک سپر سٹوربنایا جائے جسِ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ضرورت کا سامان اُٹھائیں اور کیش کاونٹر پررقم کی ادائیگی کر کے جائیں جسِ سے دوکان دار اور گاہک دونوں کو آسانی ہو گی کہ گاہک اپنی منَ پسند چیز لیکر جائے گا اور دوکاندار کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔اِسطرح اُس نے ایک چھوٹاسا سٹور کرایہ پر لیا اور سپر سٹور کے خیال کو عملی جاَمہ پہنایا۔اب اس شخص کے کئی شہروں میں درجنوں سٹورز ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تص...