خدا کے بنائے رشتوں میں سچی محبت ہے
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا اور اس کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں عقل و فہم جیسی نعمتوں کے علاوہ بے شمار طاقتوں اور صلاحیتوں سے نوازا. ہر وہ چیز،طاقت یا صلاحیت جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہے اس کا کہیں نہ کہیں امتحان ہوتا ہے. اسی طرح ہمارا ظرف ہماری صلاحیتوں میں سے ایک ہے اور اس کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ظرف کا امتحان زیادہ تر ہمارے رشتہ دار ہوتے ہیں. ہم بطوررشتہ دار ایک دوسرے کو ماننے اور تسلیم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور راستے میں روڑے اٹکاتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ظرف کا بھی امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔جو انسان اپنی زندگی میں رشتوں اور رشتے داروں کو اہمیت نہیں دیتا اس کی زندگی میں کھوکھلا پن آجاتا ہے اور وہ مادیت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالا آخر اس کی زندگی سے سکون نام کی چیز غائب ہو جاتی ہے وہ لوگ جو اللہ کے بندے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کی روشنی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کے بنائے گئے نظام اور جوڑے گئے رشتوں کو سمجھتے ہیں تویہ دنیا ان کے لیے گلزار ہے۔ اس کے برعکس زندگی قرآن و سنت کے بتائ...