خدا کے بنائے رشتوں میں سچی محبت ہے


اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا اور اس کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں عقل و فہم جیسی نعمتوں کے علاوہ بے شمار طاقتوں اور صلاحیتوں سے نوازا. ہر وہ چیز،طاقت یا صلاحیت جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہے اس کا کہیں نہ کہیں امتحان ہوتا ہے. اسی طرح ہمارا ظرف ہماری صلاحیتوں میں سے ایک ہے اور اس کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ظرف کا امتحان زیادہ تر ہمارے رشتہ دار ہوتے ہیں. ہم بطوررشتہ دار ایک دوسرے کو ماننے اور تسلیم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور راستے میں روڑے اٹکاتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ظرف کا بھی امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔جو انسان اپنی زندگی میں رشتوں اور رشتے داروں کو اہمیت نہیں دیتا اس کی زندگی میں کھوکھلا پن آجاتا ہے اور وہ مادیت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالا آخر اس کی زندگی سے سکون نام کی چیز غائب ہو جاتی ہے


وہ لوگ جو اللہ کے بندے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کی روشنی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کے بنائے گئے نظام اور جوڑے گئے رشتوں کو سمجھتے ہیں تویہ دنیا ان کے لیے گلزار ہے۔ اس کے برعکس زندگی قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصولوں کے متوازی نہ ہو توپھر انسان تو ہوتا ہے لیکن اس میں زندگی نہیں ہوتی۔ خاندان ،قبائل،ذات پات اور برادری کا نظام کائنات میں قدرت کے منصوبے کا ایک اہم حسین جزو ہے۔ اسلام انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے جس نے دنیا میں بسنے والی تمام مخلوقات و بنی نوع انسان اور اس سے وابستہ ہر رشتے کو اس کے حقوق سے نوازا ہے۔اسلام نے اس بات کو بھی انسان پر واضح کر دیا کہ ہم میں سے اگر کسی کو دوسرے شخص پر برتری یا فضلیت حاصل ہے تو وہ محض ایمان اور تقوی کی بنیا دپر ہے ۔جہاں اسلام نے دیگر حقوق مثلا والدین کے حقوق ،حقوق فقرا، غرُبا،مساکین ،یتیم،چھوٹوں اور بڑوں کے حقوق رکھے ہیں وہیں رشتہ داروں کو بھی حقو ق دیے ہیں۔

 سورة البقرہ میں ارشاد ہوا کہ

اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتہ داروں پر خرچ کرو۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے

اور رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باند ھ لینے کے بعد توڑ دالتے ہیں ۔جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیاہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا ٹھکانہ ہے۔

اسطرح حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔

جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی اور کشادگی ہو اور دنیا میں اس کے آثار تادیر رہیں(یعنی اس کی عمر دراز ہو)تو وہ اہل قرابت کے ساتھ صلح رحمی کر لے۔ کسی محتاج کی مدد کرنا محض صدقہ ہے لیکن کسی عزیز کی مدد کرنادو چیزوں پر مشتمل ہے ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔



قارئین! سب سے بہترین اور افضل صدقہ وہ ہے جو مجبور اور ناراض رشتہ دار کو دیا جائے۔ جو رشتہ دار آپ کے ہر معاملے میں ہر خاندانی اجتماع میں آپ کا شریک بن کر کھڑا ہوتا ہواورآپ کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہو لیکن جب کسی وجہ سے وہ کمزور پڑ جائے مالی مشکلات سے دوچار ہوجائے اور آپ اس کی مدد کر سکتے ہو ں توآپ کا نفس اس کی مدد کرنے پر آپ کو کبھی آمادہ نہیں کرے گا۔ آپ کا نفس کہے گا یہ توآپ کا شریک ہے آپ اپنے دشمن کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہی خاص وقت ہے کہ اس کو کمزور کیا جائے اور اس کو شکست دی جائے۔ لیکن اس وقت صدقہ دینا سب سے افضل صدقہ ہے جو ناراض رشتہ دار کو دیا جائے کیوں کہ اس کام میں اس وقت آپ کا نفس شامل نہیں ہوگا اور جس عمل میں آپ کا نفس شامل نہ ہو تو وہ کام سب سے بہترین اور افضل ہوتا ہے اور ایسے بہترین اعمال سے ہمارارب راضی ہوتا ہے.

ہمارے مال اور ہماری صدقہ و خیرات پر سب سے پہلا حق ہمارے رشتہ داروں کا ہوتا ہے۔انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ محنت و مشقت سے کمائی گئی اپنی حلال کی کمائی سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن اللہ پاک نے اس محبت میں بھی رشتہ داروں کا حصہ رکھ دیا۔اب انسان کے کرنے کے بے شمار کام ایسے ہیں جن پر انسان کی کوئی خاص محنت نہیں لگتی یا اسے وہ کام کرنے میں کوئی مشقت نہیں کرنا پڑتی تو پھر ایسی چیزوں پررشتہ داروں کا حق کیسے نہ ہو گا۔

وہ کام اپنوں کااحساس کرناہے،خوشیاں دینا، غموں کو بانٹنا، ایثاروقربانی،درگزر،صلح رحمی،باہمی تعاون، ،محبت ،شفقت، ہمدردی ،مسکراہٹ،عیادت،وقت یادو بول پیار کے ہیں۔یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان کا کوئی خرچ نہیں آتا۔ہم اپنے دوستوں ،افسروں، سیاسی و سماجی شخصیات یا ایسے اشخاص جو ہمارے کسی کام آسکتے ہوں یا جن کے متعلق ہمیں لگتاہو کہ ہماراتعلق ہونا چاہیے توہم ان سے ان تمام کیفیات اور جذبات کا اظہاریا تبادلہ توکرتے ہیں لیکن رشتہ داروں کو اپنے مثبت رویے اور معاملات کی شائستگی سے محروم رکھتے ہیں۔



عمومی طور پر ہمارے رشتہ داروں میں کچھ رشتہ دار بہت تلخیاں دیتے ہیں زندگی کے اندر زہر بھر دیتے ہیں ۔لیکن اگر کبھی وہ مجبور ہو ں تو ان کی عیادت کریں چاہے ان کا رویہ زہر ہی کیوں نہ ہو ہمارا رویہ خوبصورت ہونا چا ہیے ۔ہمیں یہاں پر صبر اوردرگزر سے کام لینا گا۔ہمیں قربانی دینے کا عمل سیکھنا ہو گا قربانی چاہے مال کی ہو، وقت کی ہو یا کسی بھی صورت میں ہو ہمیں اس کو مسلسل دہراتے رہنا چاہیے ہمیں وہاں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ۔اس امر سے قطع نظر کہ کسی رشتہ دار کو اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور وہ اپنے حالات و معاملات میں بہت خوش ہیں یا ہم سے بہتر اور مال دار ہیں ہمیں ان کے ساتھ کندھا ملاناہوگا۔ ہماری جہاں جیسے ضرورت ہو وہاں اسی مثبت رویے کے ساتھ پیش آنا ہو گا۔اگرہمیں دنیا میں سچی محبت ،خوشیوں اور سکون کی تلاش ہے تو وہ خدا کے بنائے رشتوں میں ہیں لیکن ہمیں ان کو اپنے لئے تلاش کرنا ہو گا۔



تبصرے