تصورات کی طاقت
انسانی دماغ کی سب سے بہترین خوبی تصور کرنا ہے۔ دماغ کا چیزوں کوتصور کرنا ہمارے پورے وجود پر اثر ڈالتاہے۔ یہ ہر چیز کو متاثر کرتا ہے جو ہم بولتے ہیں ،کرتے ہیں یا سوچتے ہیں۔ یہ سائنس، انجینئرنگ اور آرٹس حتی کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہم ہوں وسیع نظریات، خوابوں اور ایجادات کا باعث بنتا ہے۔
نپولین ہل اپنی کتاب روڈ ٹو سکسیس میں لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص اپنے ہاتھ میں ایک پلیٹ لیے رات کا کھانا لینے کے لئے کیفٹیریا میں لوگوں کی قطار میں لگا ہو ا تھا۔اچانک اس کی تصورات کی حسِ نے کام کرنا شروع کیا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ ایک سپر سٹوربنایا جائے جسِ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ضرورت کا سامان اُٹھائیں اور کیش کاونٹر پررقم کی ادائیگی کر کے جائیں جسِ سے دوکان دار اور گاہک دونوں کو آسانی ہو گی کہ گاہک اپنی منَ پسند چیز لیکر جائے گا اور دوکاندار کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔اِسطرح اُس نے ایک چھوٹاسا سٹور کرایہ پر لیا اور سپر سٹور کے خیال کو عملی جاَمہ پہنایا۔اب اس شخص کے کئی شہروں میں درجنوں سٹورز ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تصوارتی صلاحیت نے اسے مالا مال کر دیااور دنیاکو خریداری کا ایک نیا انداز مل گیا۔
اللہ پاک نے ہر شخص کو تصور کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے لیکن ہم اور ہمارے اردگرد بہت کم لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔جب چیزوں کو تصور نہ کیا جا رہا ہو تودماغ کی وہ صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے لیکن دوبارہ کوشش کرنے سے وہ صلاحیت بحال بھی ہوسکتی ہے۔تصور تجسس پیدا کرتا ہے اورمحرک کو بھڑکاتا ہے تا کہ بَا کس سے باہر کی زندگی کی تشکیل ہو سکے۔ اپنے ذہن کی آنکھ میں مستقبل کے مطلوبہ منظرناموں کی تصویر کشی آپ کو اپنے موجودہ اعمال کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تصور ایک طاقتور دماغ کو فروغ دیتا ہے کیونکہ یہ آپ کو اس انداز میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو بعض عام لوگوں کے لیے معیاری نہیں ہوتا۔ تصور آپ کو ایسے حل تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو آپ کے دماغ کے لیے غیر متوقع ہوں، لیکن آپ کا تصور ایسے منظرنامے بنا سکتا ہے جو مسائل کو انتہائی موئثر طریقے سے حل کرتے ہیں۔اس تصورکی طاقت کے بغیر ہمارے پاس کبھی بھی انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، ہوائی جہاز اور دیگرحیرت انگیز ٹیکنالوجی نہ ہوتی جس پر ہم ہر روز انحصار کرتے ہیں۔ سیدھے الفاظ میں، تصور ہماری دنیا کی توسیع اور ترقی کا کلیدی جزو ہے۔
ہر کامیاب انسان تصواراتی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرتاہے۔آپ اسوقت تک بہترین تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتے جب تک آپ اپنی اس صلاحیت کو استعمال میں لانا نہیں جانتے۔جب آپ کسی چیز کو تصور کرتے ہیں تو آپ عام طور پر پرانے خیالات سے نئے خیالات کی طرف سفر کر رہے ہوتے ہیں بلکل اس طرح جیسے کوئی پرانے گھر کو توڑ کر اس کی اینٹیں الگ کرلیتا ہے او ر پھر ان اینٹوں سے نیا گھر بناتا ہے۔ تصورکی عادت انسان کو مالا مال کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک مثبت اضافہ اور آسانی پیدا کرتی ہے۔انسان کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو اگروہ فکر نہیں کرتاتو اپنے کیرئیر میں ترقی تو محال وہ معاشرے کے لئے بھی کوئی مثبت اضافے کا باعث نہیں ہو گا۔
اگر آ پ چیزوں کو تصور کر سکتے ہیں تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں یعنی انسان جو مقصد اپنے ذہن میں سوچے اور اسکی منظر کشی کرسکتا ہو تو وہ اسکو حاصل بھی کرسکتا ہے۔ اسطرح ہم اپنے روز مرہ مسائل بھی اپنے تصوراتی حواس کو استعمال میں لا کرحل کرسکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس صلاحیت کو اپنی روز مرہ زندگی میں ،اپنے گھروں، دفاتر، بازاروں ،دوکانوں ،کھیلوں المختصر ہر وہ جگہ جہاں ہم بستے ہیں وہاں تصورات کو استعمال میں لا کر خدا کی خوبصورت دنیا میں خوبصورتی سے کام لیتے رہیں۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں